جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 12:18
صیہونیت اور فلسطین کا سوال: اسرائیل کی عرب جماعتیں، اقتدار کی سیاست اور فلسطینیوں کے حقوق پر ایک تجزیاتی تحریر

حوزہ/اسرائیل کی سیاست کا ایک اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ وہاں عرب شہریوں کی سیاسی نمائندگی تو موجود ہے، لیکن اقتدار کی تشکیل کے وقت ان کی شرکت کو اکثر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرب جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام کے ووٹ حاصل کرتی ہیں اور پارلیمان میں پہنچتی ہیں، لیکن ان کی انتخابی کامیابی لازماً انہیں حکومت میں شریک ہونے کا موقع نہیں دیتی۔ خصوصاً دائیں بازو کی صہیونی جماعتوں کے ایک بڑے حصے کا سیاسی رویہ یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اسرائیل میں جمہوری نمائندگی کا تصور تمام شہریوں کے لیے یکساں ہے بھی یا نہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی| اسرائیل کی سیاست کا ایک اہم اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ وہاں عرب شہریوں کی سیاسی نمائندگی تو موجود ہے، لیکن اقتدار کی تشکیل کے وقت ان کی شرکت کو اکثر شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عرب جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں، عوام کے ووٹ حاصل کرتی ہیں اور پارلیمان میں پہنچتی ہیں، لیکن ان کی انتخابی کامیابی لازماً انہیں حکومت میں شریک ہونے کا موقع نہیں دیتی۔ خصوصاً دائیں بازو کی صہیونی جماعتوں کے ایک بڑے حصے کا سیاسی رویہ یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ اسرائیل میں جمہوری نمائندگی کا تصور تمام شہریوں کے لیے یکساں ہے بھی یا نہیں۔

اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے یہ جانا جائے کہ اسرائیل کی عرب جماعتیں کون ہیں، ان کے ارکان کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا سیاسی مؤقف کیا ہے اور فلسطین کے مسئلے سے ان کا تعلق کس نوعیت کا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں عرب جماعتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوششیں کس بڑے سیاسی اور نظریاتی تضاد کی نشان دہی کرتی ہیں۔

اسرائیل کی عرب جماعتیں: مسلمان، عیسائی یا یہودی؟

یہاں سب سے پہلے ایک بنیادی حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ عرب ایک قومی، لسانی اور ثقافتی شناخت ہے، جبکہ مسلمان، عیسائی اور یہودی مذہبی شناختیں ہیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھنا درست نہیں۔

اسرائیل کے عرب شہریوں کی اکثریت مسلمان ہے، لیکن ان میں عیسائی عرب اور دروز برادری کے افراد بھی شامل ہیں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنی عربی زبان، ثقافت اور فلسطینی قومی شناخت سے وابستہ ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کی عرب جماعتوں کا ذکر کرتے وقت یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی سیاست کا بنیادی تعلق عرب شہریوں اور بالخصوص فلسطینی عربوں کے حقوق و مفادات سے ہے، نہ کہ صرف کسی ایک مذہب سے۔

اسرائیل کے قیام کے وقت، 1948ء میں، بہت سے فلسطینی اپنے گھروں اور آبائی علاقوں سے بے دخل ہوئے یا جنگ کے نتیجے میں پناہ گزین بن گئے، جبکہ فلسطینی عربوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد اپنے علاقوں میں باقی رہ گئی۔ ان میں مسلمان اور عیسائی دونوں شامل تھے۔ ان میں سے بہت سے افراد اور ان کی نسلیں آج اسرائیلی شہریت رکھتی ہیں، لیکن ان کی فلسطینی شناخت بھی برقرار ہے۔

یہی وہ آبادی ہے جس کے حقوق، مسائل اور سیاسی نمائندگی کے لیے اسرائیل کی عرب جماعتیں سرگرم رہی ہیں۔

اسرائیل کی اہم عرب جماعتیں کون سی ہیں؟

اسرائیل کی سیاست میں رعام، ہداش، تعال اور بلد جیسی جماعتیں عرب شہریوں کی نمائندگی کے حوالے سے اہم مقام رکھتی ہیں۔ ان کے نظریات اور سیاسی حکمتِ عملی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

رعام ایک اسلامی رجحان رکھنے والی عرب سیاسی جماعت ہے، جس کی قیادت منصور عباس کرتے رہے ہیں۔ اس جماعت کی سیاست میں اسرائیلی نظام کے اندر رہتے ہوئے عرب شہریوں کے لیے ترقیاتی بجٹ، تعلیم، روزگار، رہائش اور دیگر بنیادی سہولتیں حاصل کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ رعام نے 2021ء میں اسرائیل کی مخلوط حکومت کی تشکیل میں حصہ لے کر یہ واضح کیا کہ عرب جماعتیں عملی سیاسی شرکت کے ذریعے بھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرسکتی ہیں۔

ہداش ایک بائیں بازو کی سیاسی جماعت ہے جس میں عرب اور یہودی دونوں کارکن اور سیاسی نمائندے شامل رہے ہیں۔ یہ جماعت سماجی مساوات، مزدوروں کے حقوق، عرب شہریوں کے مساوی حقوق اور فلسطینیوں کے قومی حقوق کی حمایت کرتی ہے۔ اس کی مثال سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی سیاست میں تمام یہودی ایک ہی نظریے کے حامل نہیں اور بعض یہودی سیاسی کارکن عرب جماعتوں کے ساتھ مشترکہ سیاسی جدوجہد بھی کرتے ہیں۔

تعال عرب شہریوں کے حقوق اور فلسطینی مسئلے کو اپنی سیاست میں اہم مقام دیتی ہے۔ احمد طیبی اس جماعت کے معروف رہنما ہیں۔ اس کا سیاسی کردار اسرائیلی پارلیمان میں عرب شہریوں کے مسائل اٹھانے اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے وابستہ رہا ہے۔

بلد ایک عرب قوم پرست اور سیکولر رجحان رکھنے والی جماعت ہے، جو عرب فلسطینی شناخت، قومی حقوق اور ریاستی مساوات کے مطالبات پر زور دیتی ہے۔ اس کی سیاست اسرائیل کی قومی شناخت اور عرب شہریوں کی مساوی حیثیت سے متعلق بنیادی سوالات اٹھاتی ہے۔

ان مثالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب جماعتیں صرف مسلمانوں پر مشتمل نہیں۔ ان کے سیاسی حلقوں میں مسلمان اور عیسائی عرب شامل ہیں، جبکہ بعض مشترکہ جماعتوں میں یہودی بھی شریک ہیں۔ ان جماعتوں کے درمیان مذہبی، قومی اور سیاسی نظریات کے اعتبار سے اختلافات موجود ہیں، لیکن عرب شہریوں کے حقوق ان کے سیاسی مباحث کا ایک اہم حصہ ہیں۔

عرب جماعتوں کو حکومت سے باہر رکھنے کی سیاست

اسرائیل کی انتخابی سیاست کا ایک قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ عرب جماعتوں کی پارلیمانی موجودگی کے باوجود انہیں حکومت سازی کے عمل میں ہمیشہ یکساں قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔

اسرائیل کی سیاست میں خصوصاً دائیں بازو کی بعض صہیونی جماعتیں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی اتحاد کی سخت مخالفت کرتی رہی ہیں۔ ان کے نزدیک فلسطینی قومی شناخت رکھنے والی جماعتوں کے ساتھ اقتدار میں شراکت ریاست کی قومی ترجیحات اور سلامتی کے تصورات سے متصادم ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف، عرب جماعتوں اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی شہری ہونے کے ناتے انہیں بھی ملک کے سیاسی فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کرنے کا حق حاصل ہے۔

یہ اختلاف محض حکومت بنانے یا گرانے کا معاملہ نہیں، بلکہ اس سوال سے جڑا ہوا ہے کہ اسرائیل میں جمہوریت کی حدود کیا ہیں اور کیا عرب شہریوں کی سیاسی نمائندگی کو بھی اسی اصول کے تحت تسلیم کیا جاتا ہے جس کے تحت یہودی شہریوں کی نمائندگی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اسرائیل کی تمام یہودی جماعتیں عرب جماعتوں کی مخالفت نہیں کرتیں۔ بعض یہودی جماعتوں نے مختلف ادوار میں عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی تعاون کیا ہے۔ اسی طرح ہر انتخاب میں تمام جماعتوں کا رویہ یکساں نہیں رہتا۔ لہٰذا یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل کی دونوں بڑی جماعتیں ہر حال میں تمام عرب جماعتوں کو حکومت سے باہر رکھنے پر متفق رہی ہیں۔ تاہم عرب جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحاد کی مخالفت، خصوصاً صہیونی دائیں بازو کے بعض حلقوں میں، ایک اہم اور مسلسل سیاسی رجحان ضرور رہی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر عرب شہری انتخابات میں حصہ لیتے ہیں، اپنے نمائندے منتخب کرکے پارلیمان میں بھیجتے ہیں اور ریاست کے قوانین کے پابند ہیں، تو ان کی سیاسی شرکت کو ان کی قومی شناخت کی بنیاد پر ناقابلِ قبول کیوں سمجھا جائے؟

کسی سیاسی جماعت کو اس کے منشور یا مخصوص پالیسیوں کی بنیاد پر حکومت میں شامل نہ کرنا ایک سیاسی فیصلہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر کسی پوری آبادی کی نمائندگی کو محض اس کی عرب یا فلسطینی شناخت کی وجہ سے مسترد کردیا جائے تو یہ جمہوری مساوات کے اصول کے لیے ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔

کیا اسرائیل میں عرب شہری دوسرے درجے کے شہری ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے کے لیے جذبات کے بجائے قانونی، سیاسی اور سماجی حقائق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

اسرائیل کے عرب شہریوں کو ووٹ ڈالنے، انتخابات میں حصہ لینے اور پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ عرب ارکانِ پارلیمان بھی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں سیاسی نظام میں شرکت کا حق حاصل ہے۔

لیکن قانونی حق کی موجودگی اور عملی مساوات ایک ہی چیز نہیں۔ عرب شہریوں کی آبادیوں میں ترقیاتی سہولتوں، زمین، رہائش، روزگار، جرائم کی روک تھام اور سرکاری وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق مسائل طویل عرصے سے زیرِ بحث رہے ہیں۔ مختلف ادوار میں اسرائیلی حکومتوں کی پالیسیوں اور عرب شہریوں کے ساتھ سلوک پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔

یہ صورتِ حال اس بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا کسی ریاست میں شہریوں کو صرف ووٹ ڈالنے کا حق دینا کافی ہے، یا انہیں تعلیم، روزگار، تحفظ، وسائل اور سیاسی اثرورسوخ کے میدان میں بھی مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے؟

جمہوریت کا حقیقی امتحان صرف انتخابات کا انعقاد نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ مختلف قومی، مذہبی اور ثقافتی شناخت رکھنے والے شہریوں کے حقوق کس حد تک محفوظ ہیں۔

مسئلہ یہودیت نہیں، صہیونیت کی سیاسی تعبیر ہے

فلسطین کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے یہودیت اور صہیونیت کے درمیان فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

یہودیت ایک قدیم مذہب ہے، جس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ اس کے برعکس صہیونیت ایک جدید سیاسی قومی تحریک ہے، جو انیسویں صدی کے اواخر میں منظم شکل میں سامنے آئی اور جس کا بنیادی مقصد یہودی قومی وطن کا قیام تھا۔ صہیونیت کے اندر بھی مختلف سیاسی رجحانات موجود رہے ہیں؛ اس لیے ہر یہودی کو صہیونی قرار دینا یا ہر صہیونی کو ایک ہی سیاسی نظریے کا حامل سمجھنا درست نہیں۔

یہودی قوم کی تاریخ اور فلسطین سے اس کے مذہبی و تاریخی تعلق کو تسلیم کرنا ایک بات ہے، جبکہ اس تعلق کو فلسطینی عوام کے حقوق محدود کرنے، ان کی زمینوں پر قبضے یا انہیں ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے جواز کے طور پر پیش کرنا بالکل دوسری بات ہے۔

فلسطین میں صدیوں سے مسلمان، عیسائی اور یہودی آباد رہے ہیں۔ وہاں ایسے یہودی خاندان بھی موجود تھے جن کی جڑیں اسی سرزمین میں تھیں۔ دوسری طرف، انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی میں صہیونی تحریک کے زیرِ اثر مختلف ممالک سے بڑی تعداد میں یہودی فلسطین آئے۔ انیسویں صدی کے اواخر سے شروع ہونے والی یہ ہجرت برطانوی دورِ حکومت میں بڑھی اور اسرائیل کے قیام کے آس پاس کے واقعات کے ساتھ ایک شدید قومی تنازعے کی صورت اختیار کرگئی۔

1948ء کی جنگ کے دوران اور اس کے نتیجے میں تقریباً سات لاکھ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے یا پناہ گزین بن گئے۔ فلسطینی اس تاریخی المیے کو نکبہ کہتے ہیں۔ اس کے بعد فلسطینی پناہ گزینوں، ان کی واپسی کے حق، زمینوں، قومی شناخت اور خود ارادیت کے سوالات فلسطین کے تنازعے کے مرکزی موضوعات بن گئے۔

اس تاریخی پس منظر میں فلسطین کے مسئلے کو تمام یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی جنگ قرار دینا حقیقت کو محدود کردیتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کسی قوم کی قومی خواہشات پوری کرنے کے عمل میں دوسری قوم کے بنیادی حقوق کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے۔

فلسطین کے اصل باشندے کون ہیں؟

فلسطین کی تاریخ کسی ایک مذہب کی ملکیت کی تاریخ نہیں، بلکہ مختلف مذہبی اور ثقافتی برادریوں کے طویل تاریخی وجود کی تاریخ ہے۔ فلسطینی مسلمان، فلسطینی عیسائی اور اس خطے سے وابستہ یہودی برادریاں اس تاریخ کا حصہ رہی ہیں۔

اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ فلسطین کے تمام یہودی باہر سے آئے ہوئے ہیں، یا یہ کہ تمام یہودی فلسطینیوں کے حقوق کے مخالف ہیں۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ فلسطین میں کسی قوم کے تاریخی تعلق کو تسلیم کرنے کا مطلب دوسری قوم کے حقوق سے انکار کرنا ہے۔

فلسطینی عوام کا بنیادی مطالبہ اپنی سرزمین، قومی شناخت، آزادی اور حقِ خود ارادیت سے متعلق ہے۔ ان مطالبات کو تسلیم کرنا یہودیت کی مخالفت نہیں، بلکہ انصاف کے ایک بنیادی اصول کا تقاضا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم فرق سامنے آتا ہے: کسی سرزمین سے تاریخی یا مذہبی تعلق کا ہونا اور اس سرزمین پر بسنے والی دوسری قوم کے حقوق تسلیم کرنا دو الگ نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ذمہ داریاں ہیں۔

اگر کسی سیاسی نظریے کے تحت ایک قوم کے تاریخی دعوے کو دوسری قوم کے موجودہ حقوق پر فوقیت دی جائے، تو اس نظریے پر تنقید کرنا جائز اور ضروری ہے۔ تنقید کا ہدف مذہب یا مذہب کے ماننے والے تمام انسان نہیں، بلکہ وہ سیاسی تصورات اور پالیسیاں ہونی چاہییں جو کسی قوم کے حقوق کو دوسری قوم کے حقوق پر فوقیت دیتی ہیں۔

صہیونیت اور اسرائیلی سیاست کا بنیادی تضاد

اسرائیل کی عرب جماعتوں کو اقتدار میں شریک کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ اسی بڑے تضاد کی ایک مثال ہے۔

ایک طرف اسرائیل خود کو جمہوری ریاست قرار دیتا ہے اور اس کے عرب شہری انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ دوسری طرف، عرب جماعتوں کے ساتھ حکومتی تعاون کی مخالفت اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ کیا عرب فلسطینی شناخت رکھنے والے شہریوں کو ریاست کے مستقبل کے فیصلوں میں برابر کا شریک سمجھا جاتا ہے؟

اسرائیلی سیاست میں بعض صہیونی جماعتیں ریاست کی یہودی قومی شناخت کو بنیادی ترجیح دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک عرب جماعتوں کو اقتدار میں شامل کرنا قومی سلامتی یا ریاستی نظریے کے لیے مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔ لیکن ناقدین کے نزدیک یہی سوچ اس خطرے کو جنم دیتی ہے کہ ریاست کی قومی شناخت کو تمام شہریوں کی مساوی سیاسی شرکت پر فوقیت دے دی جائے۔

یہاں اختلاف کی اصل بنیاد یہ نہیں کہ ایک فریق یہودی ہے اور دوسرا مسلمان، بلکہ یہ ہے کہ ریاست کی تعریف، قومی حقوق اور سیاسی اقتدار میں شراکت کے اصول کیا ہونے چاہییں۔

اگر عرب جماعتوں کو ان کی پالیسیوں کی بنیاد پر تنقید کا سامنا ہو تو یہ جمہوری سیاست کا حصہ ہے۔ لیکن اگر انہیں محض اس لیے ناقابلِ قبول سمجھا جائے کہ وہ عرب فلسطینی شہریوں کی نمائندگی کرتی ہیں، تو یہ سیاسی مساوات کے تصور سے متصادم ہوگا۔

اس لیے فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون سی جماعت کس پالیسی کی حمایت کرتی ہے، کس نے کس فیصلے میں کیا کردار ادا کیا اور اقتدار میں شراکت کے بارے میں اس کا عملی رویہ کیا رہا ہے۔ اسی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کا تجزیہ ہونا چاہیے، نہ کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر سب کو ایک ہی خانے میں رکھ دیا جائے۔

عرب جماعتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج

اسرائیل کی عرب جماعتوں کو ایک ساتھ کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہیں اپنے شہریوں کے روزمرہ مسائل حل کرنے ہیں، سماجی اور معاشی مساوات کے لیے جدوجہد کرنی ہے، فلسطینی قومی شناخت کا دفاع کرنا ہے اور ایسے سیاسی نظام میں اپنا کردار ادا کرنا ہے جس میں ریاست کی یہودی قومی شناخت ایک بنیادی آئینی و سیاسی حیثیت رکھتی ہے۔

ان جماعتوں کے اندر بھی اختلافات ہیں۔ رعام کی عملی سیاست اور حکومتی شرکت کی حکمتِ عملی ہداش، تعال اور بلد کے بعض نظریاتی مؤقف سے مختلف ہے۔ بعض جماعتیں اسرائیلی نظام کے اندر رہ کر اصلاحات کو ترجیح دیتی ہیں، جبکہ بعض ریاست کی قومی تعریف اور فلسطینی حقوق کے سوال پر زیادہ بنیادی تبدیلیوں کی حامی ہیں۔

ان اختلافات کے باوجود، اگر یہ جماعتیں شہری مساوات، سیاسی آزادی، معاشی انصاف اور فلسطینیوں کے جائز قومی حقوق جیسے مشترکہ مقاصد پر تعاون کرسکیں تو ان کی سیاسی قوت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنا اور فلسطینی مسئلے کا بنیادی حل نکالنا دو الگ امور ہیں۔ عرب جماعتیں مقامی سطح پر اپنے شہریوں کے لیے سہولتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہیں، لیکن فلسطینیوں کی آزادی، مقبوضہ علاقوں کی صورتِ حال اور حقِ خود ارادیت جیسے مسائل کے حل کے لیے وسیع تر سیاسی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔

مسلم دنیا کے لیے کیا سبق ہے؟

اسرائیل کی عرب جماعتوں کی سیاست مسلم دنیا کے لیے بھی کئی اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔

کیا سیاسی نمائندگی صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، یا اسے محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے؟ کیا مختلف مذہبی اور نظریاتی رجحانات رکھنے والے افراد مشترکہ سماجی مقاصد کے لیے تعاون کرسکتے ہیں؟ اور کیا کسی سیاسی جماعت کی کامیابی کو اس کے نعروں کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر جانچنا چاہیے؟

عرب جماعتوں کی مثال بتاتی ہے کہ ایک ہی قومی یا لسانی شناخت رکھنے والے افراد مذہب، ریاست اور سیاست کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کسی پورے معاشرے یا سیاسی گروہ کے بارے میں یکساں فیصلہ صادر کرنا درست نہیں۔

اسی طرح سیاسی شرکت کو کامیابی کا واحد معیار بھی نہیں بنایا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس شرکت سے شہریوں کے حقوق، سیاسی آزادی اور بنیادی انصاف میں کتنا اضافہ ہوا۔

فلسطین کے معاملے میں بھی اصول واضح ہونا چاہیے: فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کسی مذہب سے نفرت کے مترادف نہیں، اور یہودیوں کے مذہبی یا تاریخی تعلق کو تسلیم کرنے کا مطلب فلسطینیوں کے حقوق سے انکار نہیں۔ حقیقی انصاف وہی ہے جو دونوں باتوں کو بیک وقت تسلیم کرے اور کسی قوم کے حقوق کو دوسری قوم کے حقوق پامال کرنے کا جواز نہ بننے دے۔

فلسطین کا مسئلہ مذہب سے زیادہ حقوق اور انصاف کا مسئلہ ہے

اسرائیل کی عرب جماعتوں کی سیاست کا مطالعہ ہمیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلاف کا مسئلہ نہیں، بلکہ زمین، قومی شناخت، آزادی، خود ارادیت، مساوات اور اقتدار کی تقسیم کا پیچیدہ مسئلہ ہے۔

رعام اسلامی رجحان کے ساتھ عملی سیاسی شرکت کی مثال پیش کرتی ہے، ہداش عرب اور یہودی اشتراک اور سماجی مساوات پر زور دیتی ہے، تعال عرب شہریوں کے حقوق اور فلسطینی سوال کو اٹھاتی ہے، جبکہ بلد عرب قومی شناخت اور ریاستی مساوات کے مطالبے کو نمایاں کرتی ہے۔

ان جماعتوں کے نظریات مختلف ہیں، لیکن ان کی سیاسی موجودگی ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: کیا ایک ریاست اپنے تمام شہریوں کو ان کی مذہبی اور قومی شناخت سے قطع نظر مساوی سیاسی حقوق دینے کے لیے تیار ہے؟

اسی سوال کے ساتھ فلسطین کے تنازعے کا بڑا اخلاقی پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ کسی قوم کا تاریخی تعلق، مذہبی عقیدہ یا قومی یادداشت اسے دوسری قوم کے حقوق ختم کرنے کا غیر مشروط اختیار نہیں دیتی۔ فلسطینیوں کو آزادی، تحفظ اور حقِ خود ارادیت ملنا چاہیے، اور یہودی شہریوں کے جائز حقوق اور سلامتی کو بھی تسلیم کیا جانا چاہیے۔

لہٰذا فلسطین کے مسئلے پر تنقید کا اصل ہدف یہودیت یا تمام یہودی نہیں، بلکہ وہ سیاسی پالیسیاں اور نظریات ہونے چاہییں جو قبضے، بے دخلی، امتیازی سلوک یا کسی قوم کی قومی شناخت کو دبانے کا سبب بنتے ہیں۔ اسی طرح کسی بھی سیاسی جماعت کو اس کے مذہب یا قومیت کے بجائے اس کے نظریے اور عملی کردار کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔

فلسطین کا اصل سوال یہ نہیں کہ کون مسلمان ہے، کون عیسائی اور کون یہودی؛ اصل سوال یہ ہے کہ کس کے حقوق تسلیم کیے جارہے ہیں، کس کے حقوق پامال ہورہے ہیں اور کیا انصاف سب کے لیے یکساں ہے؟

جب تک اس سوال کا جواب انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی بنیاد پر نہیں دیا جاتا، تب تک انتخابات، سیاسی اتحاد اور پارلیمانی تبدیلیاں اپنی اہمیت کے باوجود فلسطین کے بنیادی مسئلے کا مکمل حل فراہم نہیں کرسکتیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha